اتوار، 5 اگست، 2012

چاک گر کر دوں پردۂ الفاظ کو۔۔۔!۔(1)

چاک گر کر دوں پردۂ الفاظ کو۔۔۔!۔(1)

کھانڈ:۔

سنسکرت میں اس کی اصل کھنڈ ہے۔ یہ لفظ فارسی میں 'کند' کی شکل میں داخل ہوا۔ فارسی سے عربی میں 'قند' بنا۔ عربی سے یہ لفظ یورپی زبانوں میں داخل ہوا۔ فرانسیسی میںcandi بنا اور فرانسیسی سے انگریزی میںcandy کی شکل میں آیا۔
کہکشاں:۔
یہ بے شمار ستاروں کا مجموعہ ہےجو ہم سے بہت دور ہونے کی وجہ سےآسمان پر غبار کی ایک پٹی کی طرح نظر آتا ہے۔ یہ بہت خوبصورت اور شاعرانہ لفظ ہےلیکن اسے کرید کر دیکھیں تو اس کی ساری رعنائی ختم ہو جاتی ہے۔
قدمائے فارس نے جب اس غبار نما ستاروں کو تخیّل کی آنکھوں سے دیکھاتو انہیں ایسا لگا کہ یہ سوکھی گھاس کا گٹھا کھینچ کر چلے جا رہا ہے جس کی وجہ سے آسمان پر کھینچنے کا نشان پڑ گیا ہے، اور سوکھی گھاس کے بے شمار پرزے بکھر گئے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے اس کا نام 'کہکشاں' رکھ دیا جس کے لفظی معنی ہیں”سوکھی گھاس کھینچنے والا”۔یاد رہے 'کہہ' کا لفظ'کاہ' کا مخفف ہےجس کے معنی سوکھی گھاس کے ہیں، اور 'کشاں' کے معنی ہیں کھینچنے والا، جو' کشیدن' سےمشتق ہے۔
عربوں کی بھی یہی سوچ تھی، چنانچہ انہوں نے اس کا نام
“مجرۃ” رکھا، جس کے معنی ہیں کھینچنے کی جگہ۔
آجکل بعض عرب ملکوں میں “مجرۃ” کی جگہ “درب التبانہ” کہتے ہیں،یہ لفظ فارسی کہکشاں کا ہو بہو ترجمہ ہے۔ 'درب' کے معنی ہیں راستہ اور 'تبانہ' کے معنی ہیں “سوکھی گھاس والے”۔
یورپی لوگوں کا تخیل کچھ مختلف ہے، ان کو گھاس کے پرزوں کی بجائےدودھ نظر آتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے اس پٹی کا نام “دوودھ کا راستہ” رکھا۔ اسی بنا پر انگریزی میں کہکشاں کMilky way  (ملکی وے)، جرمن میں "Milchstrabe" اور فرانسیسی میں  "Voie Lacte"کہتے ہیں۔
انگریزی میں ایک اور لفظ  "Galaxy"بھی ہے، یہ یونانی لفظ Galaxia سے لیا گیا ہے جو Gala بمعنی دودھ سے ماخوذ ہے۔
قدمائے ہند نے ستاروں کی اس پٹی کو دریا کے روپ میں دیکھا اور اس کا نام آکاش گنگا رکھا یعنی آسمانی گنگا۔ 

                                                      بشکریہ: ماہنامہ الصٰفٰت۔ 
                                              

3 تبصرے:

  1. بھائی معلومات میں اضافہ کرنے کا بے حد شکریہ
    جزاک للہ

    جواب دیںحذف کریں
  2. بلاگ پر خوش آمدید۔ جزاک اللہ!۔

    جواب دیںحذف کریں