جمعرات, ستمبر 19, 2013

محبت کیا ہے؟؟

چراغ تلے اندھیرا
پہلا: یار مُحبت کیا ہوتی ہے؟
دوسرا : کُچھ بھی نہیں!
تیسرا: نہیں یار !محبت ہوتی ہے۔
دوسرا: یاریہ مُحبت ، عشق سب کتابی باتیں ہیں۔ حقیقت میں ان کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔
تیسرا: میں اس سے اتفاق نہیں کرتا!
پہلا: یار جو کہتے ہیں، کچھ نہ کچھ تو گا۔
دوسرا: ہاں ہے! لڑکپن میں فطری تبدیلیوں کے سبب مخالف جنس کے لئے جو کشش پیدا ہوتی ہے،  اس کو ایک میٹھا اور سہانا سا فرضی رُوپ دے دیا ہے۔ باقی سب قصے کہانیاں! میں تمہارے لئے آسمان سے تارے اور فلاں فلاں، سب  گھڑی ہوئی باتیں! اچھا یہ بتاؤ،ہماری کلاس میں سب لڑکوں کو چنبیلی ہی کیوں اچھی لگتی ہے، کلّو کیوں نہیں؟ ہر کوئی کہتا ہے کہ مجھے چنبیلی پسند ہے جبکہ کلّو کا کوئی عاشق نہیں۔ بلکہ اس کا تو ہر وقت مذاق اُڑایا جاتا ہے۔ ظاہری سی بات ہے کہ ہر شخص  خوبصورتی کو پسند کرتا ہے ۔
تیسرا: جو تُم کہہ رہے ہو ، وہ محبت نہیں ہے۔                   دوسرا: اچھا! تو تمہارے خیال میں مُحبت کیا ہے؟
تیسرا: میرے نزدیک اشفاق احمد کی بات سو فیصد درست ہے۔  " محبوب وہ ہوتا ہے جس کا
نا ٹھیک بھی ٹھیک لگے"۔ میں تو اسی کو معیار جانتا ہوں۔
پہلا: ہاں یار! یہ خُوب بات کہی تم نے۔
(تیسرا سوالیہ نظروں سے دوسرے کی طرف)
دوسرا: (دھیمے لہجے میں) یار تمہاری اس بات کو تو میں غلط نہیں کہوں گا۔ مگر یار بات پھر وہی ہے۔ کشش ہوگی تو محبت ہوگی ناں! دیکھو بات سیدھی ہے۔ چنبیلی خوبصورت ہے، کلّو نہیں ہے۔ اسی لئے سب چنبیلی کو پسند کرتے ہیں اور کلّو کا مذاق اُڑاتے ہیں۔ میں کہنا چاہتا ہوں کہ کشش محبت کی پہلی سیڑھی ہے۔ وہ محبت جو کالی اور بدصورت لیلٰی سے بھی ہو جائے ، کم از کم اس زمین پر existنہیں کرتی۔
تیسرا: مگر میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ جب دو میں محبت بھی ہوگی تو نتیجتاً کشش بھی ہوگی۔
دوسرا:(جلدی سے) مطلب تمہیں کسی ایسی لڑکی سے محبت ہو سکتی ہے جو بالکل بھی خوبصورت نہ ہو۔
تیسرا: (پر ُاعتماد ہو کر)  ہاں ! کسی کو بھی کسی بہت خوبصورت لڑکی کی بجائے کسی نارمل لڑکی سے محبت ہو سکتی ہے۔
دوسرا: وہ کیسے جی!
تیسرا: (ذرا سوچتے ہوئے) ہمم! چلو تھوڑی دیر کے لئے ہم خوب صورت نہ ہونے کو ایک خامی فرض کر لیتے ہیں۔ توہو سکتا ہے اس لڑکی میں اور  بہت سی دوسری چیزیں ہوں جنہیں میں زیادہ اہمیت دیتا ہوں۔ یعنی ان extra  خصوصیات کی وجہ سے اس کی خامی بھی مُجھے پسند ہو۔ یعنی وہی اشفاق احمد والی بات کہ "شکل نا ٹھیک بھی مجھے ٹھیک لگے"۔!  محبت ہونے کے لئے محبوب کے بارے میں تقریباً سب کچھ جاننا ضروری ہے۔ اگر آپ کسی کے مزاج و عادات سے واقف ہی نہ ہوں تو آپ کو اس سے محبت کیسے ہو سکتی ہے؟ کیا صرف اس کی اچھی شکل و صورت کی وجہ سے؟ جسے تُم بار بار کشش کا نام دے رہے ہو؟ نہیں! محبوب کی تمام اچھی بُری عادتوں کا اعادہ ہونا ضروری ہے۔ پھرمحبت ہوتی ہے۔اسی لئے جو لوگ کہتے ہیں کہ پہلی نظر میں ان کو محبت ہو گئی ہے ۔، میں ان سے اتفاق نہیں کرتا۔ شاید ان کی محبت سے مراد کچھ اور ہو گی۔
(پہلا شاید بحث کی طوالت کو بھانپتے ہوئے سو چُکا تھا)
دوسرا:  اچھا یہ بتاؤ کہ   تم کسی کی اتنی extra خصوصیات کیسے جان سکتے ہو جب تک تم اس سے ملو گے نہیں، بات چیت نہیں کرو گے۔اور تم کسی سے بات چیت کیسے کر سکتے ہو جب تک وہ تمہارے لئے ظاہری طور پر پُرکشش نہ ہو۔
تیسرا: ہاہاہا!  ہو سکتا ہے پہلی مرتبہ دیکھنے میں وہ مجھے ایک نارمل لڑکی لگی ہو۔ جب مجھے اسے مزید قریب سے دیکھنے  اور اس کو پرکھنے کا موقع ملا ، تو اس میں موجود خصلتیں اور عادتیں مجھے پسند آنے لگی ہوں اور مجھے اس سے محبت ہو جائے۔ محبت ہو گی تو نتیجتاً کشش بھی پیدا ہو جائے گی۔
دوسرا: مگرلوگ صرف خوبصورت لوگوں کو ہی پرکھتے ہیں اور خوب صورت لوگوں سے ہی محبت کرنا چاہتے ہیں۔
تیسرا: (جیسے کوئی راز کی بات بتا رہا ہو)  ایک اور بات یاد رکھنا۔ محبت کی نہیں جاتی، بس خود ہی ہو جاتی ہے۔
(پہلے نے سوتے ہوئے کروٹ بدلی)
دوسرا: ہاہاہا! پھر وہی سُنی سُنائی کتابی باتیں! یار ایسا اصل زندگی میں نہیں ہوتا۔
تیسرا: (اصرار کرتے ہوئے) یہی تو اصل زندگی میں ہوتا ہے ورنہ فلموں میں تو محبت صرف خوبصورت لوگوں کو ہوتی ہے اور خوب صورت لوگوں سے ہی ہوتی ہے۔ بس بچپن سے اب تک بھارتی فلموں میں یہی دیکھا ہے۔ اب اُن کا ٹرینڈ بدل رہا ہے تو لوگوں نے محبت  بھی بدلنا شروع کردی۔
دوسرا: (فیصلہ کُن لہجے میں) چل یار میں تمہاری ساری باتیں مان لیتا ہوں۔ بس یہ بتا دو کہ اگر اس قسم کی محبت ہمارے معاشرے میں ہے تو نظر کیوں نہیں آتی۔
تیسرا: (ذرا سوچتے ہوئے) کیونکہ ایسے لوگ ہوتے ضرور ہیں مگر ڈھونڈنے سے ملتے نہیں ہیں۔ ( آرام سے کُرسی کے ساتھ ٹیک لگا لیتا ہے اور اپنی پھیلتی ہوئی پتلیوں سے ہوا میں گھورنا شروع کر دیتا ہے) یوں سمجھو کہ روشنی میں نہیں ہوتے،اندھیرے میں رہتے ہیں۔  ایسے لوگ جن کو آپس میں محبت ہو وہ ایک دوسرے کو تو پہچان لیتے ہیں مگر  باقیوں کی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ جیسے چراغ جل رہا ہو، تو اس کی نیچے جو اندھیرا ہوتا ہے، اس میں رہتے ہیں۔ ( دوسرے کی چراغ جیسی  آنکھوں طرف دیکھتے ہوئے) یونہی تو نہیں کہتے "چراغ تلے اندھیرا"۔

5 تبصرے:

  1. محبت واقعی ایک فرضی نام ہے جو اُنسیت کو دیا گیا ہے ۔ البتہ کہتے ہیں جسے عشق وہ خلل ہے دماغ کا ۔ محبت ہونے کیلئے کسی ایسی حرکت کا ہونا ضروری ہے جو دوسرے پر اثر چھوڑ جائے ۔ پھر اگر ملاقات بالمشافہ یا کسی اور طریقہ سے جاری رہے تو یہ اُنسیت بڑھ جاتی ہے اور اسے محبت کا نام دیا جاتا ہے

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. بہت شکریہ افتخار صاحب! نہایت مختصر اور وزن دار بات کر کے آپ نے کسی کی مشکل آسان کر دی ہے۔

      حذف کریں
  2. كيا خوب بات كى !

    ایسے لوگ جن کو آپس میں محبت ہو وہ ایک دوسرے کو تو پہچان لیتے ہیں مگر باقیوں کی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. عظیم جاوید صاحب! یہ آپ کی ذرہ نوازی ہے۔ میرے بلاگ پر خوش آمدید۔ تبصرہ کرنے اور تژریف لانے کا بہت شکریہ۔

      حذف کریں
  3. ایسے لوگ جن کو آپس میں محبت ہو وہ ایک دوسرے کو تو پہچان لیتے ہیں مگر باقیوں کی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔

    جواب دیںحذف کریں