سوموار، 15 اکتوبر، 2012

دوسرا رُخ- دال میں کچھ "ملالہ" ضرور ہے!


السلام و علیکم! میرے جیسے فارغ انسان کو ہر خبر پر نظر رکھنے کی عادت ہے اور اپنی استطاعت اور کم علمی کے باوجود سوچ سمجھ کر رائے بنانے کی بھی۔  زیرِ نظر  تحریر میری کم علمی ، ناپختگی اور کم عقلی کا نمونہ ہو سکتی ہے اس لئے آپ کا اس سے متفق ہونا کوئی ضروری نہیں ۔
چند دنوں سے پاکستانی خبر رساں اداروں ،جنہیں مہذب اور پڑھے لکھے لوگ "میڈیا " کے نام سے پکارتے ہیں، کو "ملالہ بُخار" سا ہو گیا ہے۔ ویسے اس قسم کے بُخار انہیں اکثر ہوتے ہی رہتے ہیں کبھی "وینا ملک بُخار" کی شکل میں اور کبھی "آغا وقار بخار" کی صورت میں۔اس  طرح کے بخار لوگوں کو کئی نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا کر سکتے ہیں مگر یہ ایک گہری بات ہے اور اس پر مزید کسی اور وقت میں بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے۔
جمہوریت اور لوگوں کی رائے میں بہت گہرا تعلق ہے۔ ایک جمہوری نظام کے لئے
ضروری ہے کہ جو کچھ ہو لوگوں کی رائے سے ہو۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر کام کو لوگوں کی رائے اور خواہشات کے مطابق ڈھال دیا جائے یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ جو آپ کرنا چاہیں لوگوں کی رائے کو اس کے مطابق بناڈالیں۔ آجکل امریکہ میں یہی ہو رہا ہے اور پاکستان میں بھی اسی پالیسی پر کام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو ابھی پوری طرح کامیاب نہیں ہو پائی۔ پہلے سے تیار شدہ حکمت ِعملی کو لائحہ عمل میں لانے کےلئے کسی نہ کسی طرح لوگوں کی رائے بنائی جاتی ہے اور عوام کو ذہنی طور پر تیا کیا جاتا ہے۔ خیر یہ بھی ایک لمبی بحث ہے۔
آپ نے سوات آپریشن سے پہلے ایک عورت کو سرِعام کوڑے مارے جانے والی وحشیانہ ویڈیو تو ضرور دیکھی ہو گی۔ آپ کو یہ بھی معلوم ہو گا کہ بعد میں یہ ویڈیو عدالت میں جعلی ثابت ہو گئی تھی۔ اب اس جعلی ویڈیو کا مقصد کیا تھا؟ میرے خیال میں اس ویڈیو کا  اصل مقصد  لوگوں کو ذہنی طور پر اس آپریشن کے لئے تیار کرنا تھا ۔ اور یہ مقصد حاصل بھی ہو گیا۔ لوگوں کی تمام ہمدردیاں فوج اور حکومت کے ساتھ تھیں( یہ نہ سمجھ بیٹھنا کہ میں سوات آپریشن کی مخالفت کر رہا ہوں)۔ اسی طرح بے نظیر کا عین الیکشن کے قریب آکر مرنا ! بے نظیر کی وفات سے پی پی پی کو الیکشن میں لوگوں کی ہمدردیاں حاصل ہو گئیں۔ میں بے نظیر کے قتل کے حوالے سے کسی پر الزام نہیں لگا رہا بس صرف اتنا بتانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ ایسے سانحوں سے عوام کی نفسیات پر فرق پڑتا ہے اور ان کی سوچ کو ایک مجموعی سمت ضرور ملتی ہے۔
بات دور تک نکلتی جا رہی ہے۔ اپنے اصل موضوع "ملالہ بُخار" کی طرف آتے ہیں۔ خبر یہ ہے کہ" ایک بچی جو غالباََ چودہ سال کی تھی  سکول جارہی تھی، راستے میں اسے نامعلوم افراد نے حملہ کر کے قتل کرنے کی کوشش کی"۔
قتل قابلِ مذمت ہے اگر ایک بے قصور انسان کا ہو اور جان بوجھ کر کیا گیا ہو۔ جہاں تک میں جانتا ہوں  اسلام کی تعلیمات یہی ہیں اور شاید آج کی مہذب دنیا میں بھی یہی قانون رائج ہے۔ پاکستان میں بدامنی کا دور دورہ ہے اور ہر روز کئی قتل ہوتے ہوں گے۔ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اور ڈرون حملے تو روزانہ کا معمول ہیں۔ اس کے علاوہ بھی جگہ جگہ ہوس پرست لوگ معصوم(مطلب بے قصور) لوگوں کو قتل کرتے ہی رہتے ہیں جو کہ ایک قابلِ مذمت فعل ہے۔ اس لحاظ سے اس خبر میں قتل کوئی خاص بات نہیں ہے کہ جس پر "بخار" ہو جائے۔ پیچھے دو ہی چیزیں بُخار والی بچتی ہیں ۔ ایک  بچی  جس کا نام ہے "ملالہ"اور دوسری  نا معلوم افراد۔
ملالہ کون ہے؟ بی بی سی اردو کے ایک رپوٹر کی بیٹی جو کہ  سوات بدامنی دور میں بی بی سی کے لئے ایک بلاگ بھی لکھتی تھی اور اسی وجہ سے اسے پاکستان میں امن کا انعام بھی ملا ہے۔
نا معلوم افراد کے بارے میں  ہر مرتبہ کی طرح  (عبدال)رحمٰن ملک کو الہام ہو گیا کہ یہ تحریکِ طالبان پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ بہر حال یہاں سے یہ خبر ایک ڈرامائی اور جذباتی  صورت اختیار کرتی ہے جس پر ایک نظر ضروری ہے۔
"ذمہ داری تحریکِ طالبان پاکستان نے قبول کر لی"۔ یہ وہ فقرہ ہے جو ہر اس  سانحے کے بعد سُننے کو ملتا ہے جس پر حکومت کا مزید تحقیقات کرنے کا ارادہ نہ ہو اور جس کی پردہ پوشی مقصود ہو۔ تحریکِ طالبان پاکستان کا نام لگا دیا جاتا ہے  اور ہم مصروف ہو گئے ان کو گالیاں دینے میں، اور سانحے کے اصل متحرکات  چھُپ گئے۔اور مجھے یہ بات آج تک سمجھ میں نہیں آئی کہ یہ لوگ تسلیم کیسے کرتے ہیں۔ ایک اخبار میں پڑھا تھا کہ احسان اللہ  ترجمان تحریکِ طالبان پاکستان نے بی بی سی کو فون کر کے بتایا۔ کتنا دلچسپ قصہ ہے!
حالانکہ ہمیں تو یہ بتایا گیا تھا کہ تحریکِ طالبان پاکستان کی کمر ٹوٹ گئی ہے اور سوات ان سے پاک ہو گیا ہے اور ان کو  پاکستان کی سرحد سے دھکیل دیا گیا ہے۔ اور اس بات کا کیا ثبوت کہ ذمہ داری انہوں نے قبول کر لی؟ میرامقصد  تحریکِ طالبان پاکستان کی تعریف نہیں حکومت کی اصل  مسائل کی پردہ پوشی کو اجاگر کرنا ہے۔
ایک اور ڈرامائی  موڑ۔ اوباما صاحب کی مذمت، جنرل بانکی مون کی مذمت، فرانس اور برطانیہ کا ذمہ داروں کو کیفرِکردار تک پہنچانے کا مطالبہ!گویا سب تیا ر بیٹھے تھے۔

کراچی میں ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم پر لوگ ملالہ سے اظہار یکجہتی کے لئے جمع۔

اور ساتھ ساتھ  لوگوں کو نفسیاتی اور ذہنی طور پر تیار کرنے کے لئے میڈیا کا جن بھی کام پر لگ گیا۔ مولویوں کے فتوے آنا شروع ہو گئے۔ ہر سنگدل ملالہ کا نام سُن کر ملال میں ڈوبنے لگا۔ ہر جگہ  ملالہ سے ہمدردی جتائی جانے لگی۔

کراچی میں ایک شخص فرطِ جذبات سے ملالہ کے لئے دعا گو ہے۔ 13 اکتوبر ایکسپریس کے پہلے صفحے ہر شائع ہوئی۔

اور تو اور صدر زرداری جن کی اہلیہ کے قاتل ابھی دندناتے پھر رہے ہیں وہ بھی سرگرم ہو گئے۔ علاج کا خرچہ اپنے ذمہ لے لیا اور قاتلوں کو کیفرِکردار تک پہنچانے کا وعدہ کر لیا ۔ بلاول زرداری نے پی ٹی وی پر آ کر بہت جذباتی تقریر کی اور کہا کہ "آج میری بہن کو گولی ماری گئی ہے"۔ کائرہ صاحب بھی بھڑکیلے اور ذومعنوی بیانات دینے لگے مثلاََ "حملہ ملالہ پر نہیں قوم کی غیرت پر ہے"۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ" ہم ان کو اپنے بچے مارنے نہیں دیں گے"۔اور اب تو یہ بھی پتہ چلا ہے کہ ملالہ علاج کے بعد جرمنی جائے گی اور اس کے تمام انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں۔
یہ سنگدل لوگ ، جن کی سلطنت میں ہر روز سینکڑوں لوگ مرتے ہیں، اور ہزاروں مرنے کی تمنا کرتے ہیں،یہ لٹیرے جو عام لوگوں کا خون چوستے ہیں، ان میں اتنی انسانیت کہاں سے آ گئی؟ صاف پتہ چل رہا ہے کہ اس ڈرامے کے لئے یہ سب پہلے سے تیار بیٹھے تھے اور اب اپنی باری پر انہوں نے اپنے اپنے ڈائیلاگ بولنا شروع کر دئے ہیں۔ اور میڈیا جو یکدم پھر ایک "بُخار" میں مبتلا ہو گیا ہے ، بھی اس خیال کو تقویت دے رہا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔ میڈیا نے اپنا جادو دکھایا۔ لوگوں کو جذباتی کرنے کے لئے جتن کرنا شروع کر دئے۔ خاکم بدہن ! پر مجھے لگتا ہے کہ اس معصوم بچی پر حملہ اپنے ہی مالیوں کا کام ہے۔
جس طرح ملالہ معصوم  ہے اس طرح ہر وہ بچی معصوم ہے جس کا باپ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہو گیا یا وزیرستان میں ڈرون حملے میں مارا گیا۔ کیوں پاکستان کی ہر بچی کی محرومیوں کے پیچھے زرداری کی شفقت اور بلاول کی ہمدردی نہیں؟ کیوں بانکی مون ایسی بچیوں کے لئے فکرمند نہیں؟ کیوں  برطانیہ اور فرانس ان لوگوں کی محرومیوں  سے نجات کے لئے فکرمند نظر نہیں آتے؟ کیوں کائرہ ان لوگوں کی  تذلیل کو قومی غیرت پر حملہ نہیں سمجھتا ؟ یہ تمام عنایتیں محض ملالہ کے لئے مخصوص کیوں؟ کیا صرف اس لئے  کہ صرف ملالہ ہی شمالی وزیرستان پر حملے کا جواز بن سکتی ہےجونیٹو کے مفادات کے لئے ضروری ہے۔ اور ملالہ کو جرمنی کیوں لے جایا جا رہا ہے؟ تا کہ دنیا کو گواہی دی جا سکے کہ ہم مظلوم ہیں، شدت پسندی کی زد میں ہیں۔ ہماری بچیاں محفوظ نہیں، ہماری مدد کی جائے۔
ہم اپنے مسائل مستقل بنیادوں پر حل کب کریں گے ؟ اور خود کب حل کریں گے؟ کب تک خود کو دھوکا دیتے رہیں گے؟  اب ہمیں جاگنا ہو گا ! اور حالات کو سمجھنا ہو گا۔
 





8 تبصرے:

  1. ماشاء اللہ تعالیٰ
    آپ کافی چھا لکھ لیتے ہیں۔
    اللہ تعالیٰ کرئے کہ زور قلم اور زیادہ اور ملک و قوم کی مفاد کیلئے استعمال ہو۔

    صابزادی پاس ہے کمنٹس لکھنے نہیں چھوڑ رہی ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. آپ اردو سیارہ پر آجائیں اور اپنے بلاگ کی فری رجسٹریشن کرالئیں تو آپکا بلاگ اردو سیارہ ایگریگیٹر پر آتا رہے گا۔

    http://www.urduweb.org/planet/

    This is urdu planet address.

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. حوصلہ افزائی کا شکریہ! میں اردو سیارہ پر موجود ہوں پر لکھتا کبھی کبھی ہوں اس لئے شاید آپ کی نظر سے نہیں گزرا۔

      حذف کریں
  3. جسطرح سوات میں آپریشن کے بعد ان دہشتگروں کو مار مار کر نکالا گیا ہے اور وہاں کے لوگوں نے قدرے سکون کا سانس لیا ہے انشاءاللہ بہت جلد وزیرستان میں بھی ایسے ہی آپریشن کر کے ان درندوں سے شمالی وزیرستان کے لوگوں کی جان چھڑائی جائے گی۔

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. بلاگ پر آمد کا شکریہ!۔
      آپریشن ضرور کیا جائے اگر پاکستان کے حق میں ہو۔ مگر15 سالہ ملالہ کو گولی مروا کرکروانا ضروری ہے!۔

      حذف کریں

  4. امریکہ کے ایک یہودی فلم میکر کی طرف سے ملالہ اور اس کے والد کے ساتھ رہ کر بنائی گئی ڈاکیو مینٹری میں ملالہ اور اس کے والد سوات آپریشن کے بعد پاکستانی فوج کو بر ا بھلا کہتے دکھائی دے رہے ہیں اور ملالہ کہتی ہے کہ اسے اس فوج پر شرم آتی ہے ۔ واضح رہے کہ ملالہ کو طالبان حملے کے بعد سے پاک فوج ہی تمام تر طبی سہولیات فراہم کررہی ہے اور وہی اس خاندان کو تحفظ بھی فراہم کررہی ہے۔ یہ ویڈیو 2009 اور 2010 میں تیار کی گئی تھی اور اسے امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے اپنی ویب سائٹ پر نشر کیا تھا۔ یہ ویڈیو اب بھی موجود ہے اور اس میں ملالہ اور اس کے والد کے ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کئے گئے ہیں۔ اس ویڈیو میں ملالہ کے والد الزام لگا رہے ہیں کہ پاک فوج نے ان کے اسکول کو تباہ کیا اور وہ لوگوں کی املاک چوری کرنے میں بھی ملوث ہے۔ یہودی فلم ساز سے اسی دوران انٹرویو ملالہ اسے بتا رہی ہے کہ پاکستان آرمی نے ان کے اسکول کو اپنے مورچے میں تبدیل کررکھا تھا اور اس کے ہم عمر دوست کی ایک کاپی پر ایک فوجی نے اس کو عشقیہ شعر لکھ کر دئے حالانکہ وہ ایک چھوٹی سی بچی ہے۔ ملالہ اس دوران یہودی فلم میکر کو کچھ ثبوت بھی دکھا رہی ہے کہ پاکستانی فوج نے ان کے اسکول میں مورچے بنائے اور سامان تباہ کیا جب کہ بچیوں کی کاپیوں میں غلط جملے لکھے۔ملالہ اس ویڈیو کے آخری حصے میں کہہ رہی ہے کہ اسے پاکستانی فوج پر شرم آتی ہے۔ ویڈیو میں ملالہ یہ بھی کہہ رہی ہے کہ پاکستانی فوجیوں کو لکھنا تک نہیں آتا۔ واضح رہے کہ اس پوری ویڈیو میں پاکستان فوج کی سوات مین قربانیوں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے نا ہی پاک فوج کے کسی عہدے دار سے گفتگو کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ سوات آپریشن پاک فوج نے کیا تھا اور بے شمار قربانیوں سے یہ علاقہ واپس حاصل کیا گیا تھا مگر اس ڈاکیو مینٹری میں اس کا کوئی ذکر نہیں اور سارا کریڈٹ امریکی حکام کو دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ سوات مین امن کی بحالی امریکی کارنامہ تھا۔ اس کے ساتھ ہی پاکستانی فوج کو شرمناک الفاظ میں یاد کیا گیا ہے۔.
    اس ویڈیو میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ ملالہ اور اس کا والد پاک فوج کو گھٹیا کردار کا مالک قرار دے رہے ہیں اور ملالہ کہتی ہے کہ پاکستانی فوجیوں پر اس کو فخر تھا مگر اب اسے ان پر شرم آتی ہے اور وہ گندے لوگ ہین۔ ملالہ کی یہ گفتگو ویڈیو میں دیکھی جا سکتی ہے جب کہ وہ یہ بھی بتا رہی ہے کہ پاکستان فوجی لوٹ مار کرتے ہیں لڑکیوں سے غیر مہذب گفتگو کرتے ہیں۔.

    یہ ویڈیو اس لنک پر دیکھی جا سکتی ہے:
    http://www.nytimes.com/video/2009/10/10/world/1247465107008/a-schoolgirl-s-odyssey.html

    Video: A Schoolgirl’s Odyssey.
    www.nytimes.com
    A documentary by Adam B. Ellick follows a Pakistani girl through a perilous six...See more.

    جواب دیںحذف کریں
  5. واہ! کاپینٹر صاحب، آپ کے ہاتھ بڑے لمبے معلوم ہوتے ہیں۔ شکریہ اور خوش آمدید

    جواب دیںحذف کریں
  6. "کیا صرف اس لئے کہ صرف ملالہ ہی شمالی وزیرستان پر حملے کا جواز بن سکتی ہےجونیٹو کے مفادات کے لئے ضروری ہے۔ اور ملالہ کو جرمنی کیوں لے جایا جا رہا ہے؟ تا کہ دنیا کو گواہی دی جا سکے کہ ہم مظلوم ہیں، شدت پسندی کی زد میں ہیں۔ ہماری بچیاں محفوظ نہیں، ہماری مدد کی جائے"۔

    یعنی کہ ایک آپ اپنی ہی بچیوں کو گولیاں ماریں۔ تیزاب پھینکیں، چھترو چھتری کردیں۔ لیکن امید یہ کرتے ہیں کہ گھر کی بات گھر میں ہی رہے، ایویں خوامخواہ دنیا میں بدنامی نہ ہو۔

    کیا یہ کھلا تضاد نہیں۔
    اسی وقت مڑ جانا تھا جب ہات زیادتی کرنے کو اٹھ رہا تھا۔
    :)

    جواب دیںحذف کریں