سوموار، 13 اگست، 2012

چاک جو کر دوں پردۂ الفاظ کو۔۔۔!۔

کوتوال:۔
یہ لفظ فارسی کا ہے جس کے معنی ہیں “قلعہ کا محافظ”۔ لیکن یہ سنسکرت سے فارسی میں داخل ہوا ہے۔ سنسکرت میں اس کی اصل “کوٹَّ پال” ہے۔ “کوٹَّ” کے معنی قلعہ کے ہیں اور “پال” کے معنی ہیں “رکھوالا”۔ جیسے راجکوٹ، بالا کوٹ، عمر کوٹ اور سیالکوٹ وغیرہ۔
یہ لفظ برِ صغیر کے باہر بھی پایا جاتا ہے۔ فلپین کے “جزیرهٔ منڈناؤ” میں ایک شہر کا نام “کوٹا باٹو” ہےجس کے معنی ہیں “پتھر کا قلعہ”۔
اسی طرح ملائشیا کی ریاست صباح کا پایہ تخت“کوٹا کینا بول” ہے۔ 
جنوب مشرقی عراق میں ایک “الکوت” کہلاتا ہے اور اسی کی تصغیر 'الکویت' ہے۔
مر مر:۔
یہ یونانی لفظ ہے۔
یونان میں اس کی اصل (Marmar-os) ہے۔یہ (Marmairo) سے مشتق ہے جس کے معنی چمکنے کے ہیں۔
اس میں 'م' اور 'ر' کی تکرار ہے۔ جب یہ لفظ فرنچ میں داخل ہوا تو دوسرے 'م' کو 'ب' سے بدل دیا گیا۔اس تبدیلی کے بعد یہ فرنچ میںMarbre بن گیا۔ پھر بھی 'ر' کی تکرار باقی رہی۔
جب یہ فرنچ سے انگریزی میں منتقل ہوا تو انگریزوں نے 'ر' کی تکرار بھی ختم کر دی اور دوسری 'ر' کو 'ل' سے بدل کر Marbleبنا دیا۔
مرمر اورMarble ایک ہی لفظ کی دو شکلیں ہیں۔ 
                           بشکریہ: ماہنامہ الصٰفٰت 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں