منگل، 6 مئی، 2014

گوشہء صحافت سے


خبر ہے کہ "روہڑی میں 70 سالہ بوڑھے نے 11 سال کی معصوم بچی سے بیاہ رچالیا"

کیااس خبر میں معصوم کا لفظ ایک فالتو اضافہ نہیں ہے؟  خبر پڑھ کرتو یہ لگتا ہے کہ صحافی صرف یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ گیارہ سالہ بچی معصوم تھی۔ اگر گیارہ سالہ بچی معصوم نہ ہو اور کوئی ستر سالہ بوڑھا اس سے شادی کر لے تو کیا یہ جرم نہ ہو گا؟ خیر خبر کی تفصیل کو مدِنظر رکھتے ہوئےایک بہتر سرخی یہ ہو سکتی ہے۔ "گیارہ سالہ بچی وٹے سٹے کے رواج کی بھینٹ چڑھ گئی"۔ 

خبر ہے کہ" شریعت کے نفاذ پربین الاقوامی تنظیموں  اور اداروں کابرونائی کے معاشی بائیکاٹ کا اعلان"

سرخی سے یہ لگتا ہے کہ اگر کہیں شریعت آ گئی تو بہت سے بین الاقوامی ادارے اس ملک کا معاشی بائیکاٹ کر دیں گے۔ بین السطور ایک ڈر چھپا ہوا ہے۔

تفصیل میں صحافی صاحب دو اداروں کا ذکر فرماتے ہیں جن میں سے ایک خواتین کی بین القوامی تنظیم "فیمینسٹ" ہے اور دوسرا کاروباری معاونت فراہم کرنے والاگروپ "ورجن " ہے۔ فیمنسٹ نے اب تک صرف ایک مقامی ہوٹل میں اپنی ایک تقریب منسوخ کی ہے ۔ ان کو اصل میں  ان نئے قوانین کے بارے میں دکھ ہے جن کے مطابق ہمجنس لڑکوں اور لڑکیوں ٗگے اینڈ لیس بئینز" کا پتھر مار مار کر قلع قمع کر دیاجائے گا اور عورتوں کواپنا حمل ضائع کروانے پر سزا دی جائے گی۔ اکثر ایسی تنظیمیں عورتوں کے حقوق کے نام پر اسی طرح کے ڈرامے کرتی رہتی ہیں گو کہ یہ ہم جنس پرستوں کے حقوق کی تنظیم ہو۔ اب رد عمل میں یہ تنظیم  ہم جنس پرستوں کی مدد سے سلطان برونائی کے اس اقدام کے خلاف مظاہرے کرے گی۔ ورجن گروپ کے سربراہ نے کہا ہے کہ آئندہ ان کی کمپنی کا کوئی ملازم یا گھر کا کوئی فرد برونائی کے سلطان کے ہوٹل میں قیام نہیں کرے گااور ، ان کا ادارہ  ایسے کسی بھی ادارے کے ساتھ کاروباری تعلق بھی نہیں رکھے گا جس کا حسن البولکیہ سے براہ راست یا بالواسطہ تعلق ہوگا۔ یہ ہے جی عالمی اداروں کے معاشی بائیکاٹ کی تفصیل! یہ توصرف دو ادارے ہیں بلکہ ڈیڑھ۔ جبکہ سرخی سے یہ تاثر ملتا ہےجیسے بہت زیادہ اداروں نے اپنے کاروبار برونائی میں بند کر دئے ہوں ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں