اتوار، 8 دسمبر، 2013

وزیر اعظم کے کاروباری قرضے

میرے ایک عزیز کا کہنا ہے کہ مرد کو کچھ آئے نہ آئے دو کام ضرور آنے چاہیئیں۔ لڑنا کیسے ہے؟ اور کمانا کیسے ہے؟ جدید دور میں روزگار اور انصاف ہی وہ ضروریات ہیں جن کے حصول کے لئے آج کا انسان پوری زندگی تگ و دو کرتا رہتا ہے۔ روزگار کے بغیر امن، تخلیق، ترقی ، معاشرے میں مثبت کردار سب خواب ہیں۔


وزیرِ اعظم بزنس لون سکیم کا آغاز ہو چکا ہے اور لوگوں کو مچھلی پکڑنا سکھانے کے بجائے  وقت کو دھکا لگا دیا گیا ہے۔
اوپر زرد دائرے میں کہے گئے سروس چارجز کو میں سود کہنے کی جسارت کر سکتا ہوں؟

4 تبصرے:

  1. گورنمنٹ کاروبار کرنے/ کرنا سیکھنے کے لیے پیسے دے رہی ہے۔ اور کیا چاھہئے؟ ہمیشہ اوپر ہی نہیں دیکھتے رہنا چاھیئے۔ ہمارے نیچے بہت سی ایسی "مخلوق" ہے جس کے لیے لاکھ دو لاکھ ارب دو ارب کی ویلیو رکھتا ہے۔

    جہاں تک سروس چارجز کی بات ہے تو آپ بجا طور پر اس کو سود کہ سکتے ہیں۔

    لیکن یہ پوائینٹ بھی ڈیبیٹایبل ہے۔ کیونکہ مارکیٹ میں 15 سے 20٪ تک ریٹ ہے سود کا۔ جس میں بہت سی دوسری چیزوں کے ساتھ شرح مہنگائی کا بھی حصہ رکھا جاتا ہے۔
    پاکستان کی شرح مہنگائی اس وقت دس فیصد سے زیادہ ہے سالانہ۔ یعنی جب اگلے سال یہ لوگ قرض کی قسط ادا کریں گے تو اس رقم کی خریداری کی طاقت دس فیصد کم ہو چکی ہوگی۔ یعنی جو 100 روپیہ انہوں نے ایک سال پہلے لیا تھا۔ ایک سال بعد اس کی اوقات 90 ہوگی۔ جس پر یہ 8 پرسنٹ دیں گے۔ یعنی ایک سال بعد کل 98٪ واپس کیا جائے گا۔ یعنی دو فیصد کا پھر بھی فائدہ عوام کو۔

    ابھی بھی سود لگتا ہے یہ؟

    چلیں اس کو چھوڑیں۔ حکومت اگر ان لوگوں کو اس مالیت کا سونا دے اور جواب میں سروس چارجز کے بغیر سونا ہی واپس مانگے، تو عمومی اندازہ یہی ہے کہ لوگوں کو آٹھ پرسنٹ سے کافی زیادہ ڈز پڑے گی۔

    کیا خیال ہے؟

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. جوانی پٹہ صاحب! اپنے بلاگ پر آپ کو دیکھ کر بہت خعژی ہوئی۔ خوش آمدید!!!
      آپ کی پہلی بات مجھے بالکل قبول ہے۔ میں اپنی غلطی محسوس کررہاہوں۔ شاید میرے ذہن میں ان لوگوں کا خیال نہ آ سکا جن کی آپ بات کر رہے ہیں۔ میں صرف اوپر دیکھ رہا تھا۔
      دوسری بات! کہہ لیتے ہیں کہ عوام شرح مہنگائی کا 8 پرسنٹ دیں گے۔ حکومت باقی کا 7 فیصد سود کیوں دے رہی ہے؟ ایک طرح سے وہ بھی تو پبلک کا پیسہ ہی ہے۔
      تیسراحکومت جب سود پر سبسڈی دیتی ہے تو ایک طرح سے وہ لوگوں میں سود کی ادئیگی کو پروموٹ کر رہی ہوتی ہے۔ میں مانتا ہوں کہ اس سے عام آدمی کا فائدہ ہو گا۔ مگر نظام کی درستگی کے خلاف ایک رکاوٹ بھی تو ہوگی۔

      حذف کریں
  2. حضور ہم تو سود کو بھی سروس چارجز کہتے ہیں۔ آپ کیوں الٹی گنگا بہا رہے ہیں؟

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. راحیل ساحب بلاگ پر خوش آمدید!
      والد محترم نے ہماری پڑھائی کے اخراجات کے ساتھ ساتھ اپنی توانائیوں کا ایک بڑا حسہ بینک کو سود ادا کر کر کے بھی صرف کیا ہے۔ ہمیں بینک والوں خصوصا قرضے دینے والوں سے ویسے ہی کافی نفرت ہے۔ بس اسی نفرت نے یہ پوسٹنے پر مجبور کیا۔

      حذف کریں